[سال 2012ء] پاکستان کے لیے ملا جلا سال، لیکن روشن مستقبل کی نوید

2012ء دنیائے کرکٹ پر اپنی آب و تاب دکھانے کے بعد بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا اور اک نیا سال اپنے ساتھ نئے معرکے اور نئےچیلنجز لے کر آ رہا ہے۔ پاکستان نے اِس سال میں کچھ تاریخی کامیابیاں بھی سمیٹیں، اور کچھ مایوس کن شکستیں بھی اس کے دامن میں گریں لیکن بحیثیت مجموعی یہ ایک حوصلہ افزا سال رہا، میدانوں میں کارکردگی کے لحاظ سے بھی اور انتظامی لحاظ سے بھی۔ جب دو سال قبل پاکستان کرکٹ اسپاٹ فکسنگ کی دلدل میں دھنسی تھی تو بہت سوں کی نظر میں قومی کرکٹ لبِ گور کو پہنچ گئی لیکن پاکستان خاک تلے سے دوبارہ نمودار ہوا اور 2011ء میں کارکردگی کے لحاظ سے سال کی بہترین ٹیم بنا لیکن کئی حلقوں سے ایسی آوازیں اٹھیں کہ پاکستان کی تمام تر کارکردگی دراصل کمزور ٹیموں کے خلاف رہی، گو کہ ہم سری لنکا کو کمزور نہیں سمجھتے، اس لیے ہم تو پاکستان کو تب مانیں گے جب وہ سال 2012ء کا آغاز عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف اچھی کارکردگی سے کرے اور پھر پاکستان نے وہ کر دکھایا، جس کی ایک فیصد ماہرین کو بھی توقع نہ تھی، جی ہاں! انگلستان کے خلاف تاریخی کلین سویپ۔ جسے پاکستان میں "گرین واش" کا نام دیا گیا۔

تو پورے سال 2012ء کا تجزیہ ہم اس تحریر میں کریں گے، جس میں پاکستان کی میدان اور اس سے باہر کی کارکردگی، تنازعات، معاملات، اکھاڑ پچھاڑ، حوصلہ کن اور حوصلہ شکن خبروں پر کچھ نظر شامل ہیں۔
تو سب سے پہلے دیکھتے ہیں میدان میں سال بھر میں پاکستان کی کارکردگی کیا رہی۔ بحیثیت مجموعی پاکستان کے لیے یہ کوئی بہت مصروف سال نہیں تھا، خصوصاً ٹیسٹ میں تو قومی کرکٹ ٹیم کو سال میں صرف 6 مقابلے کھیلنے کو ملے۔ جن کی ابتداء متحدہ عرب امارات میں تاریخی فتح کے ساتھ ہوئی۔ انگلستان جو اس وقت عالمی نمبر ایک تھا دبئی میں دو اور ابوظہبی میں ہونے والے ایک ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی شاندار اسپن باؤلنگ اور نوجوان بلے بازوں کی یادگار کارکردگی کے سامنے ایسا ڈھیر ہوا کہ خود انگلش تجزیہ کار بول پڑے کہ یہ ٹیم نمبر ایک کہلانے کی حقدار نہیں ہے۔
ان تینوں مقابلوں میں خصوصاً ابوظہبی ٹیسٹ ، جہاں پاکستان نے انگلستان کو محض 72 رنز پر ڈھیر کر کے ناقابل یقین انداز میں مقابلہ اور سیریز جیتی۔ بلاشبہ یہ ایسے مناظر تھے جو مدتوں پاکستانی شائقین کے ذہنوں میں تازہ رہیں گے۔
بدقسمتی سے اس تاریخی فتح کے فوراً بعد ٹیم کی کارکردگی گہنا گئی۔ انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز کے تمام 4 مقابلوں میں اسے شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور اس کےبعد کچھ تنازعات بھی پیدا ہوئے جن کا ذکر آگے کریں گے۔ فی الحال گفتگو کا رخ دورۂ سری لنکا کی جانب پھیرتے ہیں جہاں پاکستان کو بہت مایوس کن سیریز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مصباح الحق پابندی کے باعث باہر کیا بیٹھے، پاکستان 206 رنز کی بدترین شکست کھا کر سیریز میں فیصلہ کن خسارہ لے بیٹھا اور اگلے دونوں ٹیسٹ میچز میں سر توڑ کوششوں کے باوجود پاکستان سری لنکن کھلاڑیوں کی مزاحمت، امپائروں کے ناقص فیصلوں اور موسم کی مداخلت کو نہ روک پایا اور بالآخر 1-0 کے ہی مارجن سے شکست کا حقدار ٹھہرا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے سال میں کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں کھیلا اور یوں سال کا اختتام تین ٹیسٹ فتوحات، ایک شکست اور دو بے نتیجہ مقابلوں تک جا کر ختم ہوا۔
سال 2012ء میں پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی
میچز | جیتے | ہارے | برابر | بے نتیجہ | زیادہ سے زیادہ اسکور | کم سے کم اسکور | فی وکٹ رنز | |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|
![]() |
6 | 3 | 1 | 0 | 2 | 551 | 99 | 30.67 |
اب اگر ایک روزہ طرز میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو وہ بالکل حوصلہ افزا نہیں تھی۔ پورے سال میں سوائے ایشیا کپ جیتنے کے قومی ٹیم کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ سال کا آغاز ہی انگلستان کے خلاف 4-0 کی بدترین شکست سے ہوا، پھر رہی سہی کسر دورۂ سری لنکا میں 3-1 سے شکست نے پوری کر دی۔ اس کے علاوہ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں بھی 2-1 کی ہار سہنا پڑی۔
مجموعی طور پر سال 2012ء میں پاکستان نے 18 ایک روزہ مقابلے کھیلے اور صرف 7 میں کامیابی سمیٹی۔ 10 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جوبدقسمتی سے مختلف سیریز میں فیصلہ کن مقابلے بھی ثابت ہوئے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف دونوں سیریز کے فیصلہ کن مقابلوں میں پاکستان اپنی گرفت ڈھیلی کر بیٹھا اور یوں میچ کے ساتھ ساتھ سیریز بھی گنوانی پڑی۔
البتہ سال کا اختتام چنئی میں راویتی حریف بھارت کے خلاف ایک یادگار فتح سے ہوا اور ہو سکتا ہے کہ یہ اس محاذ پر پاکستان کی کامیابیوں کے اک نئے سلسلے کو شروع کرے۔
سال 2012ء میں پاکستان کی ون ڈے کارکردگی
میچز | جیتے | ہارے | برابر | بے نتیجہ | زیادہ سے زیادہ اسکور | کم سے کم اسکور | فی وکٹ رنز | |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|
![]() |
18 | 7 | 10 | 0 | 1 | 329 | 130 | 29.51 |
اب مختصر ترین طرز کی جدید کرکٹ 'ٹی ٹوئنٹی' کا ذکر کرتے چلیں جس میں پاکستان کی بہترین کارکردگی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2012ء کے سیمی فائنل تک رسائی تھی۔ بحیثیت مجموعی سال کے اس سب سے بڑے ٹورنامنٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی توقعات سے کہیں بڑھ کر رہی اور محمد حفیظ کی زیر قیادت ٹیم نے کئی پنڈتوں کو حیران کیا۔
البتہ سال کا آغاز انگلستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ساتھ ہوا اور پاکستان بعد ازاں سری لنکا میں ٹی ٹوئنٹی سیریز نہ جیت پایا البتہ آسٹریلیا کے خلاف ایک شاندار ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی گئی جس میں پاکستان نے 2-1 سے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس سیریز کا دوسرا مقابلہ بلاشبہ سال کے بہترین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں سےایک تھا۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں اس نے نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش جیسے کمزور حریفوں کے علاوہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے سخت حریفوں کو شکست دی لیکن بھارت اور پھر سیمی فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست نے اس کی پیشرفت کا خاتمہ کر دیا۔
مجموعی طور پر سال 2012ء میں پاکستان نے 16 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیلے جن میں سے 8 جیتے اور 7 میں شکست کھائی جبکہ ایک برابر رہا، جو بعد ازاں پاکستان نے سپر اوور میں جیتا۔
اس کے علاوہ سال کا اختتام بھارت میں دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں سے ہوا جن میں ایک میں فتح حاصل کی جبکہ دوسرے میں اسے سخت مقابلے کے بعد شکست ہوئی۔
سال 2012ء میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی
میچز | جیتے | ہارے | برابر | بے نتیجہ | زیادہ سے زیادہ اسکور | کم سے کم اسکور | فی وکٹ رنز | |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|
![]() |
16 | 8 | 7 | 1 | 0 | 181 | 74 | 19.98 |
یہاں ہم قومی کرکٹ ٹیم سے وابستہ کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی پر طویل بات نہیں کریں گے، محض جدول کے ذریعے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے چند کھلاڑیوں کے اعدادوشمار پیش کرنے پر اکتفا کر کے تحریر کا سلسلہ دوبارہ نیچے سے جوڑیں گے۔
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ٹیسٹ بلے باز
نام | مقابلے | اننگز | رنز | بہترین اننگز | اوسط | سنچریاں | نصف سنچریاں | چوکے | چھکے |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
اظہر علی | 6 | 10 | 551 | 157 | 55.1 | 3 | 1 | 42 | 1 |
محمد حفیظ | 6 | 12 | 505 | 196 | 45.90 | 1 | 2 | 60 | 3 |
اسد شفیق | 6 | 10 | 424 | 100* | 47.11 | 1 | 3 | 48 | 1 |
یونس خان | 6 | 10 | 360 | 127 | 36.00 | 1 | 1 | 34 | 1 |
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ٹیسٹ گیند باز
نام | مقابلے | رنز | وکٹیں | بہترین باؤلنگ/اننگز | بہترین باؤلنگ/میچ | اوسط | فی اوور رنز اوسط | پانچ وکٹیں | دس وکٹیں |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
سعید اجمل | 6 | 802 | 39 | 7/55 | 10/97 | 20.56 | 2.65 | 2 | 1 |
عبد الرحمن | 5 | 566 | 25 | 6/25 | 8/92 | 22.64 | 2.62 | 2 | 0 |
جنید خان | 4 | 338 | 14 | 5/70 | 6/115 | 24.14 | 3.09 | 2 | 0 |
عمر گل | 5 | 465 | 12 | 4/61 | 6/89 | 38.75 | 3.41 | 0 | 0 |
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ایک روزہ بلے باز
نام | مقابلے | اننگز | رنز | بہترین اننگز | اوسط | سنچریاں | نصف سنچریاں | چوکے | چھکے |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
مصباح الحق | 18 | 18 | 493 | 72* | 37.92 | 0 | 2 | 34 | 4 |
محمد حفیظ | 18 | 18 | 476 | 105 | 26.44 | 1 | 2 | 41 | 4 |
ناصر جمشید | 8 | 8 | 462 | 112 | 66.00 | 2 | 2 | 45 | 5 |
اظہر علی | 12 | 12 | 411 | 96 | 45.66 | 0 | 4 | 35 | 1 |
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ایک روزہ گیند باز
نام | مقابلے | رنز | وکٹیں | بہترین باؤلنگ | اوسط | فی اوور رنز اوسط | اسٹرائیک ریٹ | چار وکٹیں | پانچ وکٹیں |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
سعید اجمل | 17 | 655 | 31 | 5/43 | 21.12 | 4.31 | 29.3 | 1 | 1 |
عمر گل | 14 | 607 | 15 | 3/24 | 40.46 | 5.51 | 44.0 | 0 | 0 |
شاہد آفریدی | 16 | 647 | 15 | 5/36 | 43.13 | 4.72 | 54.8 | 0 | 1 |
محمد حفیظ | 18 | 553 | 13 | 2/20 | 42.53 | 3.59 | 71.0 | 0 | 0 |
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ٹی ٹوئنٹی بلے باز
نام | مقابلے | اننگز | رنز | بہترین اننگز | اوسط | اسٹرائیک ریٹ | 50+ | چوکے | چھکے |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
محمد حفیظ | 16 | 16 | 398 | 61 | 24.87 | 110.86 | 2 | 42 | 9 |
ناصر جمشید | 11 | 11 | 263 | 56 | 26.30 | 121.19 | 2 | 20 | 10 |
عمر اکمل | 16 | 14 | 222 | 43* | 20.18 | 109.35 | 0 | 18 | 5 |
شعیب ملک | 16 | 13 | 215 | 57* | 26.87 | 97.28 | 1 | 16 | 4 |
سال 2012ء میں پاکستان کے بہترین ٹی ٹوئنٹی گیند باز
نام | مقابلے | رنز | وکٹیں | بہترین باؤلنگ | اوسط | فی اوور رنز اوسط | اسٹرائیک ریٹ | چار وکٹیں | پانچ وکٹیں |
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
سعید اجمل | 16 | 391 | 25 | 4/23 | 15.64 | 6.1 | 15.3 | 2 | 0 |
عمر گل | 15 | 436 | 19 | 4/37 | 22.94 | 8.38 | 16.4 | 1 | 0 |
یاسر عرفات | 6 | 121 | 10 | 3/18 | 12.10 | 8.44 | 8.6 | 0 | 0 |
سہیل تنویر | 9 | 205 | 10 | 3/12 | 20.50 | 6.50 | 18.9 | 0 | 0 |
ان اعدادوشمار کے بعد اب بات کرتے ہیں، پاکستان میں انتظامی سطح پر تبدیلیوں کی۔ سال کی سب سے اہم خبر انگلستان کے خلاف ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کے بعد مصباح الحق کا زیر عتاب آنا تھا۔ وہی مصباح جو تاریخی ٹیسٹ فتح کے بعد سب کی آنکھوں کا تارا تھا، اچانک معتوب ٹھیرا اور بالآخر اسے ٹی ٹوئنٹی کی قیادت سے محروم ہونا ہی پڑا۔

دوسری جانب پاکستان نے رواں سال اپنی کوچنگ ٹیم کو مکمل کیا۔ طویل غوروخوض کے بعد بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیو واٹمور کو ہیڈ کوچ مقرر کیا جبکہ جولین فاؤنٹین فیلڈنگ کوچ قرار پائے۔ یوں محسن خان کے "مختصر و ہنگامہ خیز" دور کا خاتمہ ہوا۔ جس کے بعد انہوں نے خوب ہنگامہ بھی کھڑا کیا اور پاک-انگلستان محدود اوورز کی سیریز کو متنازع بنانے کی کوشش کی لیکن بورڈ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
پاکستان نے بعد ازاں ماہ اگست میں محمد اکرم کو باؤلنگ کوچ بھی مقرر کیا۔ یہاں بورڈ نے غیر ملکی امیدواروں کو رد کرتے ہوئے پاکستان نے تعلق رکھنے والے کوچ ہی کو چنا، جو انگلستان میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
اب ذکر کریں، سال کی اہم ترین خبر یعنی پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کا، جو سال بھر مختلف جوار بھاٹوں سے گزرنے کے بعد بالآخر ایک محدود اوورز کی سیریز پر منتج ہوئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں اس کا کریڈٹ ذکا اشرف کی قیادت کو دیتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف یہ کہ خود بھارت کے دورے کر کے تعلقات کی بحالی کو ممکن بنایا بلکہ اس کے لیے حکومت پاکستان کے ذریعے سیاسی طریقے بھی آزمائے۔ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے دورۂ بھارت میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی کا ذکر ہوا اور یوں برف پگھلنا شروع ہوئی۔
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ذکا اشرف کو آئی پی ایل 5 کا فائنل دیکھنے کے لیے مدعو کیا اور پھر چیمپئنز لیگ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیموں پر عائد غیر اعلانیہ پابندی کا بھی خاتمہ کروا دیا۔ یوں سیالکوٹ اسٹالینز کو پہلی بار سی ایل ٹی 20 میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔
گو کہ چند قومی حلقے پاک-بھارت سیریز سے پاکستان کو نہ ملنے والے مالی فائدے کی بات کر رہے ہیں، اور اس ضمن میں وہ حوالہ دیتے ہیں کہ بھارت نے دو مرتبہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا، پاکستان کا دورہ کرنے سے بھی اور نیوٹرل مقام پر کھیلنے سے بھی، لیکن اس کے باوجود پاکستان بھارت ہی میں کھیلنے پر راضی ہوا۔ لیکن بہرحال یہ ایک اہم سمت میں پہلا قدم تھا جس کا کریڈٹ ذکا اشرف کو ملنا چاہیے۔ جن کی وجہ سے دو طرفہ سیریز کو ترسے ہوئے دونوں طرف کے تماشائیوں کو یادگار مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

البتہ ایک سمت میں پیشرفت ہونا ابھی باقی ہے، وہ ہے آئی پی ایل 6 میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت کا معاملہ۔ اس سلسلے میں اتنا کچھ ہنگامہ مچایا جا چکا ہے کہ اب مزید کچھ کہنا باقی نہیں رہتا۔ دیکھتے ہیں رواں سال جب کھلاڑیوں کی نیلامی کا عمل شروع ہوگا تو کیا ہوتا ہے۔
پاکستان کرکٹ ہو اور تنازعات سے پاک ہو؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ رواں سال بھی مختلف تنازعات ابھرتے رہے جن میں سب سے پہلا تنازع پاک-انگلستان سیریز کے خاتمےکے بعد اٹھا جب عبوری کوچ محسن حسن خان کو اندازہ ہونے لگا کہ ان کو مستقل کوچ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے کرک نامہ کو خصوصی انٹرویو میں یہ کہہ کر قومی منظرنامے پر ہلچل مچا دی کہ "پاکستان سیریز ہارا ضرور، لیکن انگلستان بھی جیتا نہیں تھا"، اس بیا ن کا جو مطلب تھا، وہ سب سمجھ گئے ہوں گے۔اس انٹرویو کے بعدمحسن خان ذرائع ابلاغ پر ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور خوب لے دے ہوئی لیکن کوئی بھی حربہ انہیں کوچ کے عہدے پر برقرار نہ رکھ سکا اور بالآخر انہیں خاموش ہونا پڑا۔
انگلستان کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست محسن خان کے علاوہ کپتان مصباح الحق کے لیے بھی مشکلات کا سبب بنی۔ جو صفائیاں پیش کر کر کے تھک گئے لیکن بالآخر انہیں ٹی ٹوئنٹی قیادت چھوڑنا ہی پڑی، جس کا قرعہ فال محمد حفیظ کے نام نکلا۔
سال کا دوسرا بڑا تنازع پاکستان کے اسپنر دانش کنیریا کا انگلستان میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پھنسنا اور بعد ازاں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا تھا۔ 2010ء میں پاکستان کے تین کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ معاملے میں پھنسنے اور طویل پابندیوں اور قید کی سزاؤں کے بعد یہ قومی کرکٹ کا ایک اور شرمناک باب تھا۔ اس کی مزید تفصیل آپ اس تحریر اور متعلقہ تحاریر میں پڑھ سکتے ہیں۔

البتہ بڑے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے مرکزی کرداروں میں سے ایک محمد عامر گزشتہ سال پہلی بار انٹرویو کے ذریعے سامنے آئے اور اس دلدل میں اپنے پھنسنے کا ذمہ دار سلمان بٹ اور محمد آصف کو قرار دیا۔ یہ انٹرویو اپنی تمام تر تفصیلات اور وڈیوز کے ساتھ کرک نامہ کے محفوظات کا حصہ ہے۔ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
بہرحال، ابھی کنیریا والے معاملے کی گرد ٹھیک سے بیٹھی بھی نہ تھی کہ سمرسیٹ کاؤنٹی کی جانب سے انگلستان میں کھیلنے والے پاکستانی اسپنر عبد الرحمٰن کے بھنگ استعمال کرنے کا معاملہ منظرعام پر آ گیا جس کی وجہ سے انہیں تین ماہ کی پابندی بھی بھگتنا پڑی۔
ان کے علاوہ ایک تنازع آئی سی سی ایوارڈز میں بھی اٹھا جس نے سال بھر تمام طرز کی کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود سعید اجمل کو کسی بھی اعزاز کا حقدار نہ ٹھیرایا ۔ حیران کن طور پر سعید اجمل کو نظر انداز کیے جانے پر کئی غیر ملکی ماہرین بھی ششدر رہ گئے۔
اعجاز بٹ کی نااہل قیادت کے خاتمے کے ساتھ ہی ذکا اشرف نے جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا، انہوں نے ایک بات بارہا دہرائی کہ ان کی پہلی ترجیح پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ہوگی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے کافی کوششیں کیں، گو کہ ان کوششوں پر کئی حلقوں کی جانب سے اعتراض بھی اٹھایا گیا، لیکن ذکا اشرف اپنی دھن میں مگن ہیں۔
البتہ انہیں اب تک اس سلسلے میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔ بنگلہ دیش پورے سال 'کبھی ہاں، کبھی ناں' کرتا رہا اور دورۂ پاکستان کا معاملہ لٹکتا رہا۔ حال ہی میں دورۂ پاکستان کی امید ایک مرتبہ پھر جاگی لیکن بنگلہ دیش نے ایک مرتبہ پھر امن و امان کی صورتحال کو جواز بناتے ہوئے دورے سے انکار کر دیا۔

البتہ نجی پیمانے پر ایک کوشش ضرور کی گئی جب کراچی میں ماہ اکتوبر میں انٹرنیشنل ورلڈ الیون اور پاکستان اسٹارز الیون نامی دو ٹیموں کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔ گو کہ جس سطح کے کھلاڑیوں اور پیمانے پر یہ مقابلے کھیلے گئے، وہ ہر گز ایک سنجیدہ کوشش قرار نہیں دیے جا سکتے لیکن بہرحال ممکن ہے کہ یہ ایک اہم معاملے کی سمت ایک چھوٹا سا قدم ہوں۔ البتہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب بھی اہم کام پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس طویل سالنامے کے بعد ہم توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سال 2013ء نہ صرف قومی کرکٹ ٹیم کے لیے فتوحات کے نئے دروازے وا کرے گا، بلکہ اس سال پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں کوئی سنجیدہ پیشرفت بھی نظر آئے گی۔