ویسٹ انڈین مزاحمت دم توڑ گئی، بھارت کا کلین سوئپ

بالآخر ویسٹ انڈیز کی مزاحمت نے دم توڑ دیا۔ دو بہت ہی سنسنی خیز مقابلوں کے بعد آخرکار ویسٹ انڈیز نے وہی کارکردگی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے بلکہ اگر بہتر الفاظ استعمال کریں تو یہ کہ جس کا خدشہ ہوتا ہے۔ تیسرے اور آخری ون ڈے میں 119 رنز کی بھاری شکست کے ساتھ ویسٹ انڈیز کو سیریز میں وائٹ واش کی ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔
بھارت کا دورۂ ویسٹ انڈیز 2022ء - تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل
ویسٹ انڈیز بمقابلہ بھارت
27 جولائی 2022ء
بھارت سیریز 3-0 سے جیت گیا
بارش سے متاثرہ اس مقابلے میں بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے 36 اوورز میں صرف تین وکٹوں پر 225 رنز بنائے۔ بھارتی فتح کی بنیاد کپتان شیکھر دھاون اور شبمن گل کی 113 رنز کی ابتدائی شراکت داری نے رکھی۔
دھاون نے 74 گیندوں پر 58 رنز بنائے جبکہ شبمن گل اپنی پہلی ون ڈے سنچری کے بہت قریب پہنچے، لیکن مکمل نہ کر پائے۔ بلکہ یہ کہیں تو بہتر ہوگا کہ بارش نے انہیں یقینی سنچری سے محروم کر دیا۔ وہ 98 گیندوں پر 98 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ ان دونوں کے علاوہ شریاس آیر 34 گیندوں پر 44 رنز کے ساتھ تیسرے نمایاں بیٹسمین رہے۔
بھارت کے 225 رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کو ڈک ورتھ لوئس طریقے کے تحت 35 اوورز میں 257 رنز کا ہدف ملا۔ جتنا بڑا ہدف تھا، ویسٹ انڈیز کا آغاز اتنا ہی بدترین تھا۔ محمد سراج کی طوفانی باؤلنگ کے سامنے اس کی ابتدائی دو وکٹیں صفر پر ہی گر گئیں۔ انہوں نے اپنی پہلی گیند پر کائل میئرس کو آؤٹ کیا اور تیسری پر شیمار بروکس کو ٹھکانے لگا دیا۔
آنے والے بلے بازوں میں برینڈن کنگ اور نکولس پورَن کے 42، 42 رنز کے علاوہ کسی کی کوئی قابلِ ذکر باری شامل نہیں رہی۔ چھ بلے باز تو دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہوئے جبکہ چار صفر پر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز 26 اوورز میں صرف 137 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور یوں 119 رنز کی شکست سے دوچار ہوا۔
سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں میں زبردست ٹاکرے کے بعد اتنی تو توقع تھی کہ یہاں بھی زبردست مزاحمت دیکھنے کو ملے گی اور امکان تھا کہ ویسٹ انڈیز کلین سوئپ سے بچ جائے گا، لیکن ایسا ہو نہیں پایا۔
اب دونوں ٹیمیں پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے میدان میں اتریں گی، جن کا آغاز جمعہ 29 جولائی سے ہوگا۔