انگلینڈ نے ایک ہی مقابلے میں کئی ریکارڈز توڑ دیے

کچھ دن پہلے جونی بیئرسٹو نیوزی لینڈ کو دن میں تارے دِکھا رہے تھے اور آج جوس بٹلر نے نیدرلینڈز کو مریخ، مشتری، زحل، عطارد سب دِکھا دیے ہیں۔
ایسا لگ رہا تھا کہ نیدرلینڈز کی باؤلنگ لائن بے رحم قصائیوں کے ہاتھ لگ گئی ہے۔ جوس بٹلر، ڈیوڈ ملان، فل سالٹ اور لیام لوِنگسٹن، سب نے حصہ بقدر جثّہ ڈالا اور انگلینڈ کو 498 رنز تک پہنچا دیا۔ جی ہاں! ایک نیا عالمی ریکارڈ۔
سب سے بڑے ٹوٹل کا عالمی ریکارڈ
انگلینڈ نے اگست 2016ء میں پاکستان کے خلاف 444 رنز بنا کر ایک اننگز میں سب سے بڑے ٹوٹل کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ وہ ایسا دن تھا، جسے کوئی پاکستانی یاد نہیں رکھنا چاہے گا۔
خیر، دو سال بعد جون 2018ء میں آسٹریلیا کے خلاف انگلینڈ نے 481 رنز بنائے اور ایک نیا ریکارڈ قائم کر ڈالا، جو آج کے ون ڈے سے پہلے تک قائم تھا۔
دیکھیں کہ پچھلے چھ سالوں کے دوران انگلینڈ نے تین مرتبہ اپنے ہی ریکارڈ کو بہتر بنایا ہے اور کوئی دوسری ٹیم اس کے قریب بھی نہیں پھٹک پائی۔
ون ڈے انٹرنیشنل: ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز
ٹیم | اسکور | اوورز | بمقابلہ | بمقام | بتاریخ |
---|---|---|---|---|---|
![]() | 498-4 | 50.0 | ![]() | ایمسٹلوین | 17 جون 2022ء |
![]() | 481-6 | 50.0 | ![]() | ناٹنگھم | 19 جون 2018ء |
![]() | 444-3 | 50.0 | ![]() | ناٹنگھم | 30 اگست 2016ء |
![]() | 443-9 | 50.0 | ![]() | ایمسٹلوین | 4 جولائی 2006ء |
![]() | 439-2 | 50.0 | ![]() | جوہانسبرگ | 18 جنوری 2015ء |
![]() | 438-9 | 49.5 | ![]() | جوہانسبرگ | 12 مارچ 2006ء |
![]() | 438-4 | 50.0 | ![]() | ممبئی | 25 اکتوبر 2015ء |
![]() | 434-4 | 50.0 | ![]() | جوہانسبرگ | 12 مارچ 2006ء |
![]() | 418-5 | 50.0 | ![]() | پوچفیسٹروم | 20 ستمبر 2006ء |
![]() | 418-5 | 50.0 | ![]() | اندور | 8 دسمبر 2011ء |
جوس بٹلر کی اننگز تو آج دیکھنے کے قابل تھی۔ انہوں نے صرف 70 گیندوں پر ناقابل شکست 162 رنز رنز بنائے۔ بلاشبہ وہ ڈبل سنچری تک پہنچ جاتے، اگر مزید اوورز موجود ہوتے۔ 14 چھکوں اور 7 چوکوں سے مزین اس اننگز کے دوران بٹلر نے اپنی نصف سنچری 27 گیندوں پر مکمل کی تھی لیکن پھر 47 گیندوں تک پہنچتے پہنچتے 100 اور صرف 65 گیندوں پر 150 کا ہندسہ بھی عبور کر چکے تھے۔
ڈیوڈ ملان اور فل سالٹ کی 222 رنز کی پارٹنرشپ مضبوط بنیاد فراہم کر چکی تھی۔ لیکن یہ بٹلر تھے کہ جن کے آتے ہی اننگز کو پر لگ گئے۔ انہوں نے ملان کے ساتھ صرف 90 گیندوں پر 184 اور آخر میں لیام لوِنگسٹن کے ساتھ صرف 32 گیندوں پر 91 رنز کی شراکت داریاں کیں۔
ویسے اس ریکارڈ ہدف تک پہنچانے کے لیے آخری دھکا لیام لونگسٹن نے ہی لگایا۔ انہوں نے صرف 22 گیندوں پر 66 رنز بنائے اور ایک اوور میں 32 رنز بھی لوٹے۔ یہ اننگز کا 46 واں اوور تھا جس میں لونگسٹن نے فلپ بوائسیوین کو چار چھکے اور دو چوکے لگائے۔
ایسی ہی دھواں دار بیٹنگ کی وجہ سے انگلینڈ 300 رنز کا ہندسہ پار کرنے کے بعد صرف 12 اوورز میں 198 یعنی تقریباً 200 رنز بنا گیا۔ سوچ کر بھی حیرت ہو رہی ہے۔
ایک اننگز میں تین سنچریاں
انگلینڈ کی اننگز میں جوس بٹلر کے 162 رنز کے علاوہ فل سالٹ نے 93 گیندوں پر 122 اور ڈیوڈ ملان نے 109 گیندوں پر 125 رنز بنائے، یعنی تاریخ میں یہ صرف تیسرا موقع تھا کہ کسی ایک ون ڈے اننگز میں تین بلے بازوں نے سنچریاں بنائی ہوں۔
سالٹ، ملان اور بٹلر سے پہلے 2015ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک مقابلے میں جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ، رائلی روسو اور اے بی ڈی ولیئرز نے سنچریاں اسکور کی تھیں۔
اسی سال یعنی 2015ء میں جنوبی افریقی بلے بازوں نے بھارت کے خلاف ایک میچ میں یہ کارنامہ دہرایا۔ اس مرتبہ اے بی ڈی ولیئرز کے علاوہ کوئنٹن ڈی کوک اور فف دو پلیسی نے سنچریاں اسکور کیں۔
ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے
انگلینڈ کی اننگز میں جوس بٹلر کے 14 چھکوں کے علاوہ چھ چھکے لونگسٹن نے لگائے جبکہ فل سالٹ اور ڈیوڈ ملان بھی اپنی سنچری اننگز کے دوران تین، تین چھکے لگا گئے، یعنی اننگز میں کُل 26 چھکے لگے۔ یہ بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ریکارڈ بھی اس سے پہلے انگلینڈ ہی کے پاس تھا، جس نے 2019ء میں افغانستان کے خلاف ورلڈ کپ کے ایک مقابلے میں 25 چھکے لگائے تھے۔
تب بھی انگلینڈ نے اپنا ہی ریکارڈ توڑا تھا جو اس نے فروری 2019ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سینٹ جارجز میں 24 چھکے لگا کر قائم کیا تھا۔
ون ڈے انٹرنیشنل: ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والی ٹیمیں
ٹیم | اسکور | چوکے | چھکے | بمقابلہ | بمقام | بتاریخ |
---|---|---|---|---|---|---|
![]() | 498-4 | 36 | 26 | ![]() | ایمسٹلوین | 17 جون 2022ء |
![]() | 397-6 | 21 | 25 | ![]() | مانچسٹر | 18 جون 2019ء |
![]() | 418-6 | 34 | 24 | ![]() | سینٹ جارجز | 27 فروری 2019ء |
![]() | 360-8 | 21 | 23 | ![]() | برج ٹاؤن | 20 فروری 2019ء |
![]() | 283-4 | 22 | 22 | ![]() | کوئنزٹاؤن | یکم جنوری 2014ء |
![]() | 389 | 30 | 22 | ![]() | سینٹ جارجز | 27 فروری 2019ء |
![]() | 481-6 | 41 | 21 | ![]() | ناٹنگھم | 19 جون 2018ء |
![]() | 438-4 | 38 | 20 | ![]() | ممبئی | 25 اکتوبر 2015ء |
![]() | 337-4 | 24 | 20 | ![]() | پونے | 26 مارچ 2021ء |
![]() | 383-6 | 30 | 19 | ![]() | بنگلور | 2 نومبر 2013ء |
ان تمام ریکارڈز اور اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے چند سالوں میں ورلڈ چیمپیئن انگلینڈ دنیائے کرکٹ میں کتنی بڑی طاقت بن چکا ہے۔