پاکستان کو ملے گی ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹرافی

گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کرکٹ کی حالت دیکھیں تو یہ بات خواب سی لگتی ہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ٹرافی کبھی پاکستان کا مقدر بنے گی لیکن مصباح الحق نے اس خواب کو ایک حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ یہ بات کم حیرانگی کی حامل نہیں کہ جہاں طویل عرصے سے کوئی بین الاقوامی کرکٹ سرگرمی نہیں ہوئی، وہاں پر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی تقریب منعقد ہوگا اور پاکستان کو ٹیسٹ چیمپئن کی گرز نما ٹرافی دی جائے گی۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اعلامیے کے مطابق 21 ستمبر بروز بدھ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوگی جس میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کی ٹرافی پاکستان کے کپتان مصباح الحق کے حوالے کی جائے گی۔ صبح ساڑھے 10 بجے ہونے والی اس تقریب میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن بھی شرکت کریں گے اور صحافیوں سے گفتگو کریں گے۔
آئی سی سی نے 2003ء میں ٹیسٹ درجہ بندی کا موجودہ نظام متعارف کروایا تھا جس کے بعد پاکستان پہلی بار اس وقت نمبر ایک پر پہنچا جب اس نے گزشتہ ماہ انگلستان کے خلاف چار ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز دو-دو سے برابر کی۔ پاکستان کو یہاں تک پہنچانے میں اہم کردار سری لنکا کی آسٹریلیا پر تین-صفر سے تاریخی کامیابی اور ویسٹ انڈیز اور بھارت کی سیریز میں چوتھے ٹیسٹ کا بارش سے متاثر ہونے کا بھی تھا۔
پاکستان اس وقت 111 پوائنٹس کے ساتھ عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہے جبکہ بھارت ایک پوائنٹ کی کمی کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ آسٹریلیا اور انگلستان کے برابر 108 پوائنٹس ہیں جو بالترتیب تیسرے اور چوتھے درجے پر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرفہرست 7 ٹیموں کے درمیان صرف 16 پوائنٹس کا ہی فرق ہے
ٹیسٹ چیمپئن شپ کی یہ خوبصورت ٹرافی برطانیہ کے شاہی جوہری ایسپرے اینڈ گیرارڈ نے 2001ء میں بنائی تھی۔ اس کا نچلا حصہ ایک کرکٹ اسٹمپ کی صورت کا ہے جس پر ایک گولہ بنا ہوا ہے جو دنیائے کرکٹ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس پر تمام 10 ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے نشانات کندہ ہیں۔ یوں اس کی شکل ایک گرز جیسی بنتی ہے جو طاقت اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس ٹرافی کی مالیت 2001ء میں 30 ہزار برطانوی پاؤنڈز تھی۔ یہ ٹرافی ٹیسٹ درجہ بندی کے نظام میں نمبر ایک بننے والی ایک ٹیم سے دوسری میں گردش کرتی رہتی ہے۔