سعید اجمل اور محمد حفیظ مستقبل کے اسٹار کھلاڑیوں کی تلاش میں

ماضی میں دنیائے کرکٹ کے بہترین باؤلر اور بیٹسمین پاکستان کی جانب سے کھیلتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسے باصلاحیت کھلاڑی دھندلکوں میں کھو گئے ہیں اور اب عوام کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں نے بھی بھانپ لیا ہے کہ قومی کرکٹ کو ایک مرتبہ پھر ماضی کی عظمتیں دلانے کے لیے مستقبل کے ستارے تلاش کرنے کا کام انجام دینا پڑے گا اور یہی مقصد لیے پاکستان کی قومی ٹیم کے دو اہم کھلاڑی میدان میں آ گئے ہیں۔

ایک جانب جہاں فیصل آباد میں سعید اجمل "لائل پور ٹیلنٹ ہنٹ" کے نام سے نوجوان کھلاڑیوں کے ٹرائلز لے رہے ہیں اور انہیں تربیت دینے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے تو وہیں سرگودھا میں محمد حفیظ "اسکلز ٹو شائن" نامی پانچ روزہ کیمپ میں کر رہے ہیں۔ سعید بالخصوص اسپن گیندبازوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پیش پیش ہیں جبکہ حفیظ پاکستان انڈر19 کے سابق کوچ اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے کوچ منصور رانا کے ساتھ سرگودھے میں ہیں۔
سرگودھا میں ٹرائلز کے بعد اب ان کھلاڑیوں کا پانچ روزہ تربیتی کیمپ کل سے شروع ہوگا جس میں منصور رانا ذمہ دار ہوں گے جبکہ پاکستان کے سابق فیلڈنگ کوچ اور حال ہی میں قومی خواتین ٹیم کی کوچنگ کرنے والے محتشم رشید بھی ان کے ساتھ ہیں۔
منصور رانا نے بتایا کہ اس کیمپ میں چالیس سے پچاس لڑکوں کو اگلے پانچ روز تک بھرپور تربیت دی جائے گی جس میں صبح کے سیشن میں فزیکل ٹریننگ اور فیلڈنگ کی مشقیں ہوں گی جبکہ شام کے سیشن میں نیٹ پر بلے بازوں اور گیندبازوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
اگر پاکستان کے دیگر تجربہ کار کھلاڑی بھی سعید اجمل اور محمد حفیظ کی پیروی کریں، تو مستقبل کے لیے پاکستان کو کئی باصلاحیت کھلاڑی میسر آ سکتے ہیں کیونکہ ماضی قریب میں پاکستان کو جتنے بھی بڑے کھلاڑی حاصل ہوئے، وہ ڈومیسٹک سرکٹ سے آنے والے نہیں بلکہ ایسے ہی ٹیلنٹ ہنٹ اور ٹرائلز سے اٹھائے گئے کھلاڑی تھے۔