پاکستانی بلے بازوں نے نااہلی کی انتہا کر دی، ہاتھ آیا مقابلہ گنوا دیا

اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ ہدف کے تعاقب میں پاکستان دہائیوں سے ایک کمزور ٹیم سمجھی جاتی ہے، جس کی سب سے اہم وجہ ہے کہ بلے بازی کے شعبے میں پاکستان ویسے عظیم کھلاڑی پیدا نہیں کر پایا جیسا کہ باؤلنگ کے شعبے میں سامنے آئے ہیں اور اب بھی ٹیم کی باؤلنگ اور بیٹنگ میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ گو کہ آج کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں جب یہ فلسفہ غلط ثابت ہونے جا رہا تھا، تو پاکستان نے وہ کر دکھایا، جس کی توقع شاید خود سری لنکا کو بھی نہ ہوگی۔ اک ایسے میدان پر جہاں پاکستان گزشتہ 10 میں سے کوئی مقابلہ نہیں ہارا تھا، اور 244 کے ہدف کے تعاقب میں 166 رنز 2 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچنے کے باوجود پاکستان نے ایک ہی اوور میں ہتھیار ڈال دیے اور 199 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر ایک اور کھلاڑی کو ہیرو بنانے کے سلسلے کو جا ری رکھا۔ جی ہاں، ایک مرتبہ پھر تھیسارا پیریرا مرد میدان قرار پائے جن کے ایک ہی اوور نے میچ کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ جس میں ہیٹ ٹرک سمیت گرنے والی چار وکٹوں کے باعث پاکستان کو چوتھے ایک روزہ میں 44 رنز کی ناقابل یقین شکست بھگتنا پڑی اور یوں سری لنکا نے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ گزشتہ چند سالوں میں 240 رنز سے زائد کے ہدف کے تعاقب والے 18 مقابلوں میں پاکستان کی 15 ویں ناکامی ہے جو اس حوالے سے قومی کرکٹ ٹیم کے بلے بازوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تھیسارا پیریرا ایک مرتبہ پھر پاکستانی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے اور اس بار کو ہیٹ ٹرک بھی کر ڈالی (تصویر: AP)

تھیسارا پیریرا ایک مرتبہ پھر پاکستانی بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے اور اس بار کو ہیٹ ٹرک بھی کر ڈالی (تصویر: AP)

اس کے علاوہ کئی دیگر حوالوں سے بھی پاکستان کی یہ شکست بدترین تھی۔ پاکستان کے کل چھ کھلاڑی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ جن میں محمد حفیظ، عمر اکمل، شاہد آفریدی، سرفراز احمد، سہیل تنویر اور عمر گل شامل تھے۔ یہ تاریخ میں تیسرا موقع تھا کہ پاکستان کے چھ بلے باز کسی ایک روزہ مقابلے میں صفر پر آؤٹ ہوئے ہوں۔

ریت کی دیوار کی طرح گرنے سے قبل اظہر علی اور مصباح الحق کے درمیان تیسری وکٹ پر 113 رنز کی رفاقت نے پاکستان کو بہت مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا تھا جسے 8 وکٹوں کے ساتھ 76 گیندوں پر 78 رنز کی ضرورت تھی لیکن بیٹنگ پاور پلے لیتے ہی پاکستان مسائل سے دوچار ہو گیا۔ مصباح 57 رنز بنا کر پویلین لوٹے تو پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی حالت قابل رحم نظر آنے لگی۔ وہ پاور پلے کے دوسرے اور مجموعی طور پر اننگز کے 38 ویں اوور میں آؤٹ ہوئے اور ان کے پویلین لوٹتے ہی مقابلے پر پاکستان کی گرفت ڈھیلی پڑتی چلی گئی کیونکہ اگلی ہی گیند پر عمر اکمل وکٹوں کے کیچ تھما بیٹھے۔ اسی اینڈ سے اگلا اوور تھیسارا پیریرا نے پھینکا تو گویا پاکستانی تابوت میں کیل ٹھونک دی انہوں نے تین مسلسل گیندوں پر یونس خان، شاہد آفریدی اور سرفراز احمد کو ٹھکانے لگا کر نہ صرف ہیٹ ٹرک مکمل کی بلکہ اوور کی آخری گیند پر سہیل تنویر کے رن آؤٹ ہوتے ہی 176 پر پاکستان کی آٹھویں وکٹ گر گئی۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں مجموعی طور پر ساتواں اور پاکستان کے خلاف پہلا موقع تھا کہ کسی سری لنکن باؤلر نے مسلسل تین گیندوں پر تین حریف بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا ہو۔

بہرحال، پاکستان کی جانب سے اظہر علی نے سب سے عمدہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور ایک روزہ کرکٹ میں اپنی اہلیت ثابت کر دی ہے۔ وہ ایک مرتبہ پھر بدقسمتی سے سنچری مکمل نہ کر سکے کیونکہ 45 ویں اوور میں سعید اجمل کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی اننگز تمام ہوئی اور اظہر علی کو ناقابل شکست 81 رنز کے ساتھ میدان سے لوٹنا پڑا۔ البتہ وہ ایک ا‏عزاز حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہے، یعنی بیٹ کیری۔ وہ ایک دہائی کے بعد ایک روزہ کرکٹ میں بیٹ کیری کرنے والے پہلے بلے باز ہیں۔

سری لنکا کی جانب سے ایک مرتبہ پھر تھیسارا پیریرا کامیاب ترین گیند باز رہے جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں اور بعد ازاں میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کیا جبکہ دو وکٹیں لاستھ مالنگاکو ملیں۔ ایک، ایک وکٹ نووان کولاسیکرا، اینجلو میتھیوز اور سجیوا ویراکون کو ملی۔

قبل ازیں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور ابتدا میں اوپل تھارنگا کی وکٹ گنوانے کے باوجود پاکستان کی طرح بلے بازی نہیں کی۔ اسکور میں سست روی کے باوجود سری لنکا نے اپنی وکٹیں بچا کر رکھیں۔ خصوصاً چوتھی وکٹ پر تجربہ کار کمار سنگاکارا اور کپتان مہیلا جے وردھنے کی 110 رنز کی شراکت نے سری لنکا کو توقعات سے بڑھ کر اسکور تک پہنچنے میں مدد دی۔ خصوصاً دونوں نے جس طرح دوسرے بیٹنگ پاور پلے کا استعمال کیا اس کی مدد سے سری لنکا کو ایک اچھا پلیٹ فارم ملا۔ دونوں نے مذکورہ 5 اوورز میں 49 رنز لوٹے جن میں عمر گل کے دو اوورز میں پڑنے والے 29 رنز بھی شامل تھے۔ جے وردھنے 44 ویں اوور میں سہیل تنویر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انہوں نے 50 گیندوں پر 40 رنز بنائے جبکہ اگلے اوور میں سنگاکارا بدقسمتی سے اپنی سنچری سے محض 3 قدم کے فاصلے پر سعید اجمل کا شکار ہو گئے۔ اظہر علی نے ان کا ایک خوبصورت کیچ لیا۔ سنگا کی اننگز 130 گیندوں پر 3 چھکوں اور 7 چوکوں سے مزین تھی۔ بعد ازاں سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 243 رنز بنائے۔
پاکستان کی جانب سے سہیل تنویر، سعید اجمل اور محمد حفیظ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ عمر گل کو ملی۔ عمر گل ایک مرتبہ پھر بہت ہی مہنگے گیند باز ثابت ہوئے جن کے 8 اوورز میں سری لنکا نے 51 رنز لوٹے جبکہ سعید اجمل نے بھی 10 اوورز میں 50 رنز دیے۔ صرف شاہد آفریدی اور محمد حفیظ ایسے باؤلر تھے جنہوں نے حریف ٹیم کے اسکور کو باندھ کر رکھا۔ آفریدی نے 10 اوورز میں صرف 36 اور حفیظ نے 37 رنز دیے۔

باؤلنگ کے علاوہ پاکستان نے فیلڈنگ بھی بھیانک کی خصوصاً 35 کے انفرادی اسکور پر عمر گل کی جانب سے سنگاکارا کا کیچ چھوڑنا بہت مہنگا ثابت ہوا کیونکہ اس وقت سنگا نے 82 گیندوں پر صرف 35 رنز بنائے تھے اور زندگی ملنے کے بعد انہوں نے اگلی 48 گیندوں پر 62 رنز لوٹے۔

اب دونوں ٹیمیں 18 جون کو اسی میدان پر حتمی مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گی جہاں پاکستان کے پاس آخری موقع ہوگا کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے اور سیریز کو 2-2 کے قابل عزت انجام تک پہنچائے۔ بصورت دیگر 3-1 کی ذلت آمیز شکست کھانا پڑے گی۔

تھیسارا پیریرا کی ہیٹ ٹرک

سری لنکا بمقابلہ پاکستان

چوتھا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

16 جون 2012ء

بمقام: راناسنگھے پریماداسا اسٹیڈیم، کولمبو، سری لنکا

نتیجہ: سری لنکا 44 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: تھیسارا پیریرا (سری لنکا)

سری لنکا رنز گیندیں چوکے چھکے
اوپل تھارنگا ک یونس ب گل 4 8 1 0
تلکارتنے دلشان ایل بی ڈبلیو ب حفیظ 24 47 2 0
کمار سنگاکارا ک اظہر ب سعید اجمل 97 130 7 3
دنیش چندیمال ب حفیظ 18 30 2 0
مہیلا جے وردھنے ب سہیل تنویر 40 50 4 0
تھیسارا پیریرا ک عمر اکمل ب سعید اجمل 8 9 1 0
اینجلو میتھیوز ناٹ آؤٹ 10 11 0 0
لاہیرو تھریمانے رن آؤٹ 13 9 1 1
نووان کولاسیکرا ب سہیل تنویر 3 5 0 0
لاستھ مالنگا ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ب 5، ل ب 10، و 11 26
مجموعہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 243

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
عمر گل 8 1 51 1
سہیل تنویر 10 2 43 2
شاہد آفریدی 10 0 36 0
یونس خان 2 0 11 0
سعید اجمل 10 1 50 2
محمد حفیظ 10 0 37 2

 

پاکستانہدف: 244 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ک کولاسیکرا ب مالنگا 0 5 0 0
اظہر علی ناٹ آؤٹ 81 126 4 1
اسد شفیق ایل بی ڈبلیو ب ویراکون 25 34 2 0
مصباح الحق ک کولاسیکرا ب مالنگا 57 77 4 0
عمر اکمل ک سنگاکارا ب کولاسیکرا 0 4 0 0
یونس خان ک سنگاکارا ب پیریرا 1 5 0 0
شاہد آفریدی ک چندیمال ب پیریرا 0 1 0 0
سرفراز احمد ک جے وردھنے ب پیریرا 0 1 0 0
سہیل تنویر رن آؤٹ 0 2 0 0
عمر گل ک سنگاکارا ب میتھیوز 0 1 0 0
سعید اجمل ک تھریمانے ب پیریرا 12 14 1 0
فاضل رنز ل ب 9، و 14 23
مجموعہ 45 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 199

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
لاستھ مالنگا 7 0 30 2
نووان کولاسیکرا 9 0 36 1
اینجلو میتھیوز 9 0 33 1
سجیوا ویراکون 10 0 49 1
تھیسارا پیریرا 10 1 42 4
مصنف: تاریخ: 17 جون، 2012   موضوع: سری لنکا، پاکستان   ٹیگز: ، ،

کے بارے میں

فہد کیہر (قلمی نام: ابوشامل) کرک نامہ کے مدیر اور بانی ہیں۔ آپ 2007ء سے اردو بلاگنگ سے وابستہ ہیں۔

2 تبصرے برائے تحریر"پاکستانی بلے بازوں نے نااہلی کی انتہا کر دی، ہاتھ آیا مقابلہ گنوا دیا"

  1. ابو شامل صاحب،
    آپ صحیح معنوں میں کرکٹ لور ہیں۔ :|

  2. علی حسن بلوچ says:

    جناب یہ پریرا تو ایک لحاظ سے عذابِ الہی بن کر آیا ہے. پاکستان کی بیٹنگ لائن کو ایسا تہس نہس ہوتے میں نے کبھی نہیں دیکھا ہے. ہمارے تو پروفیسر، لالا وغیرہ سب کھائے ہوئے بھوس کی طرح بکھر جاتے ہیں. ابھی پاکستان ٹیم کو چاہیئے کہ آخری میچ کے بجائے وہاں سے بھاگ آئے. کیونکہ یہ کھیل اپنا ہے.

تبصرہ تحریر کریں

مجھے بذریعہ ای میل اس تحریر پر ہونے والے تازہ تبصروں سےآگاہ رکھیں۔ بغیر تبصرہ کیے تازہ تبصروں سے آگاہ رہنے کے لیےیہاں کلک کریں ہیں۔