سیمی ٹیم میں گیل کی جلد از جلد شمولیت کے خواہشمند

پے در پے شکستوں سے دوچار ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی اس سلسلے کو توڑنا چاہتے ہیں۔ عالمی نمبر ایک انگلستان کی سرزمین پر اس کے خلاف جیتنے کے ایک مشکل ترین ہدف کو حاصل کرنے کے خواہاں ڈیرن سیمی چاہتے ہیں کہ شعلہ فشاں بلے باز کرس گیل جلد از جلد ٹیم میں واپس آ جائیں تاکہ اصل کمزوری یعنی بیٹنگ لائن اپ کو مضبوط کیا جا سکے۔

کرس گیل رائل چیلنجرز بنگلور کے انڈین پریمیئر لیگ سے باہر ہو جانے کے بعد اب فارغ ہیں (تصویر: AFP)

کرس گیل رائل چیلنجرز بنگلور کے انڈین پریمیئر لیگ سے باہر ہو جانے کے بعد اب فارغ ہیں (تصویر: AFP)

کرس گیل، جو ایک سال تک ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ساتھ تنازع کے باعث ٹیم سے باہر رہے، کے معاملات اب تقریباً حل ہو چکے ہیں اور وہ ٹیم میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت کے باعث انہیں ٹیسٹ دستے کا حصہ نہیں بنایا گیا، لیکن ان کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کے باہر ہو جانے کے بعد اب سیمی پرامید ہیں کہ سلیکشن کمیٹی انہیں جلد واپس لائے گی۔

ویسٹ انڈیز اور انگلستان کا دوسرا ٹیسٹ 25 مئی سے ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں شروع ہوگا اور ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ دستے میں گیل کی واپسی میر ےلیے باعث مسرت ہوگی۔

برطانیہ کے خبری چینل 'اسکائی اسپورٹس ' سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیرن سیمی نے کہا کہ جو بھی کھلاڑی ٹیم کا حصہ بنے گا ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اور توقع ہے کہ وہ ٹیم کو لیے مدد گار ثابت ہوگا۔ اب اس بات کا انحصار سلیکٹرز پر ہے کہ وہ کس کا انتخاب کرتے ہیں اور کس کا نہیں۔

سیمی کا کہنا تھا کے میرے خیال سے گیل اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ تینوں طرز کی کرکٹ کے لئے دستیاب ہوں گے لہٰذا اب فیصلہ سلیکٹرز کے ہاتھوں میں ہے۔ بیٹنگ کے حوالے سے ہمیں ٹاپ آرڈر میں کافی مشکلات کا سامنا ہے اور اگر گیل اس نازک وقت میں ٹیم کا سہارا بنتے ہیں تو یقیناً سب ہی کو خوشی ہو گی۔

جمعے سے ٹرینٹ برج میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں شین شلنگفرڈ کو بھی شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ سیمی کے مطابق 29 سالہ اسپیشلسٹ اسپنر کے لارڈز ٹیسٹ میں عدم انتخاب کی وجہ اُن کا انگلستان کے ٹھنڈے موسم سے مانوس نہ ہو پانا تھا۔ تاہم گزشتہ ماہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں 10 وکٹیں سمیٹنے والے شین کی اہلیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ ناٹنگھم میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

سیمی کا کہنا تھا کہ شین کو پہلے ٹیسٹ میں گیند پر گرفت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا تھا، لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اگلا مقابلہ کھیلنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہوں گے۔ آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ سیریز میں اُن کا کردار بہت اہم رہا، بس ایک بار وہ سرد موسم سے مطابقت پیدا کر لیں، تو وہ ضرور ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں انگلستان نے ویسٹ انڈیز کو با آسانی 5 وکٹوں سے زیر کر لیا اور ویسٹ انڈیز کے لیے گیند بازی اپنی جگہ وجہ تشویش ضرور تھی لیکن اصل مسئلہ بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ رہا جو پہلی اننگز میں 243 کے نسبتاً کم اسکور پر ڈھیر ہوئی اور دوسری اننگز میں 345 رنز بنا کر بھی انگلستان کو ناقابل عبور ہدف نہ دے پائی۔

کے بارے میں

تبصرہ تحریر کریں

مجھے بذریعہ ای میل اس تحریر پر ہونے والے تازہ تبصروں سےآگاہ رکھیں۔ بغیر تبصرہ کیے تازہ تبصروں سے آگاہ رہنے کے لیےیہاں کلک کریں ہیں۔