بوم بوم پاکستان! آفریدی کے دو چھکے اور بھارت ہار گیا

جن کرکٹ شائقین کو جاوید میانداد کا وہ چھکا یاد نہیں جس کے ذریعے انہوں نے 1986ء میں آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے چیتن شرما کو رسید کرکے پاکستان کو یادگار فتح دلائی تھی، ان کے لیے شاہد آفریدی نے تاعمر یاد رکھنے والا سامان کیا اور آخری اوور میں مسلسل دو گیندوں پر دو چھکے لگا کر پاکستان کو ایک وکٹ سے جتوا دیا۔ ایک ایسا مقابلہ جس کے لیے نہ الفاظ ہیں اور نہ ہی اسے بیان کیا جا سکتا ہے ، ہر آٹھ دس اوورز کے مرحلے پر اس مقابلے کی حالت مختلف تھی۔ یہاں تک کہ پاکستان کے لیے معاملہ آخری 5 اوورز میں درکار 43 رنز تک پہنچ گیا اور اس مقام پر شاہد آفریدی اور عمر گل کے تین اوورز میں 30 رنز نے اسے پاکستان کے حق میں جھکا یا لیکن بھوونیشور کمار کے اوور میں عمر گل اور محمد طلحہ کے آؤٹ اور پھر آخری اوور کی پہلی گیند سعید اجمل کے کلین بولڈ نے اچانک ہی اسے میدان سے تقریباًباہر پھینک دیا۔ جنید خان نے آخری اوور کی دوسری گیند پر ایک رن لے کر اسٹرائیک شاہد آفریدی کو دی اور انہوں نے اگلی دونوں گیندوں کو چھکے کی راہ دکھا کر پاکستان کو یادگار فتح دلا دی۔

شاہد آفریدی کے یہ دو چھکے آئندہ کئی دہائیوں تک یاد رکھے جائیں گے (تصویر: AFP)

شاہد آفریدی کے یہ دو چھکے آئندہ کئی دہائیوں تک یاد رکھے جائیں گے (تصویر: AFP)

اس امر میں تو کسی کو شبہ نہیں کہ پاکستان اور بھارت کا مقابلہ 'ہاتھیوں کی لڑائی' ہوتا ہے۔ اس کا دباؤ ہی اتنا ہوتا ہے کہ فارم سے قطع نظر دونوں ٹیموں میں برابر کی ٹکر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیر بنگلہ اسٹیڈیم، میرپور میں بھی مقابلہ برابری کی سطح پر ہوا۔ سب سے پہلے پاکستان نے ٹاس جیت کر باؤلنگ کا حیران کن فیصلہ کیا۔ ہدف کے تعاقب میں مشہور زمانہ کمزوری کے باوجود یہ فیصلہ بعد ازاں نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا تھا لیکن ایک وکٹ کی فتح نے اس فیصلے نے لاج رکھ لی۔

پاکستان نےبائیں ہاتھ سے کھیلنے والے شیکھر دھاون کے لیے خصوصی طور پر محمد حفیظ کو گیند تھمائی اور انہوں نے کچھ ہی دیر میں شیکھر کو اپنے دام میں پھنسا لیا اور انہیں ایل بی ڈبلیو کرکے پاکستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ جب ایک اینڈ سے روہیت شرما پاکستان کے تمام ہی باؤلرز کو دھو رہے تھے تو بڑے مقابلے اور قیادت کے دباؤ تلے موجود کوہلی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اور 38 رنز کی شراکت داری میں محض 5 رنز کا حصہ ڈالنے کے بعد وہ عمر گل کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے کر چلتے بنے۔ اب پاکستان کے لیے ہدف واضح تھا، روہیت کو ٹھکانے لگانا اور پھر بھارت کی ناتجربہ بیٹنگ لائن اپ پر ہاتھ صاف کرنا۔ اس مقصد کے لیے محمد طلحہ کو خصوصی طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا کہ وہ اپنی برق رفتار گیندوں سے بھارت کو حیران کریں اور انہوں نے روہیت کو محمد حفیظ کے شاندار کیچ کے ذریعے ٹھکانے لگاکر بھارت کو تیسرا بڑا دھچکا پہنچایا۔ اس وقت تک بھارت کی اننگز تہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوئی تھی۔ ابھی اس دھچکے سے ٹیم انڈيا سنبھلی بھی نہ تھی کہ طلحہ نے اجنکیا راہانے کو پروفیسر کے ایک اور عمدہ کیچ کے ذریعے آؤٹ کرکے میچ میں اپنی شمولیت کا حق ادا کردیا۔ گو کہ طلحہ پنڈلی میں تکلیف کی وجہ سے اپنے 10 اوورز مکمل نہ کرسکے لیکن 7 اوورز میں 22 رنز دے کر دو قیمتی وکٹیں حاصل کرنے کی کارکردگی سے انہوں نے صلاحیتوں کا ثبوت دے ہی دیا۔

بہرحال، محض 105 رنز پر 4 وکٹوں سے محروم ہونے کے بعد وکٹ پر دنیش کارتھک اور امباتی رایوڈو نے وکٹیں گرنے سے روکنے کو اپنا شعار بنالیا۔ اگلے تقریباً13 اوورز تک انہوں نے دونوں اینڈ سنبھالے رکھے اور اسکور میں 52 رنز کا قیمتی اضافہ بھی کیا۔ اس مقام پر پاکستان کو وکٹوں کی سخت ضرورت تھی اور محمد حفیظ کے ہاتھوں جدیجا کا کیچ چھوٹنے، امپائر کی جانب سے جدیجا کو واضخ ایل بی ڈبلیو نہ دینے اور رن آؤٹ کے مواقع ضایع ہونے نے بھارت کو مقابلے میں واپسی کی راہ دکھائی۔ جدیجا نے ملنے والی دو زندگیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا 58 رنز بنا کر بھارت کو 245 رنز کے اچھے مجموعے تک پہنچا دیا جو تعاقب کرنے والی کمزور پاکستانی ٹیم کے لیے کافی تھا۔ بھارت نے جدیجا کی بدولت آخری 5 اوورز میں 44 رنز لوٹے۔ جدیجا 49 گیندوں پر 52 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

پاکستان کی جانب سے سعید اجمل نے سب سے بہترین باؤلنگ کروائی اور 10 اوورز میں 40 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد طلحہ کےعلاوہ محمد حفیظ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ ایک کھلاڑی کو عمر گل نے آؤٹ کیا۔

246 رنز کا ہدف دینے کے بعد مطمئن ہوجانے والے بھارت کا تمام تر اطمینان پاکستانی اوپنرز نے ختم کردیا۔ شرجیل خان اور احمد شہزاد کی 71 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کو بہترین بنیاد فراہم کی۔ لیکن ایک مرتبہ اطمینان بخش پوزیشن پر پہنچنے کے بعد پاکستان جس طرح مقابلے پر گرفت ڈھیلی کرتا ہے، اس کا سب کو پہلے بھی اندازہ تھا اور آج بھی ہوگیا۔ شرجیل کے لوٹتے ہی کچھ ہی دیر میں احمد شہزاد بھی اپنی وکٹ دے گئے اور پھر میچ کا مایوس کن ترین لمحہ جب محمد حفیظ نے کپتان مصباح الحق کو رن آؤٹ کروا دیا۔ مصباح آج اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے بالائی نمبروں پر بیٹنگ کے لیے آئے تھے اور محمد حفیظ کی بھیانک رننگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ رہی سہی کسر عمر اکمل کے غیر ذمہ دارانہ شاٹ نے پوری کردیا اور یوں شکست کا پورا سامان تیار ہوگیا۔ کہاں بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 71 رنز اور کہاں 113 رنز پر چار آؤٹ!

محمد حفیظ کے لیے آج ایک حیران کن دن رہا، دو وکٹیں لیں، ایک قیمتی کیچ ڈراپ کیا، کپتان کو رن آؤٹ کروایا اور قیمتی 75 رنز بنائے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ کے لیے آج ایک حیران کن دن رہا، دو وکٹیں لیں، ایک قیمتی کیچ ڈراپ کیا، کپتان کو رن آؤٹ کروایا اور قیمتی 75 رنز بنائے (تصویر: AFP)

اس مقام پر پاکستان کی بلے بازوں کی آخری مستند جوڑی حفیظ اور صہیب مقصود کی صورت میں موجود تھی جنہوں نے اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے 44 ویں اوور تک وکٹیں گرنے کے سلسلے کو روکے رکھا۔ گو کہ رنز بنانے کی رفتار بہت سست رہی اور دونوں نے 127 گیندوں پر 87 رنز کا ہی اضافہ کیا لیکن یہی وہ شراکت داری تھی جس نے پاکستان کے بجھتے ہوئے امیدوں کے چراغ دوبارہ روشن کیے۔ لیکن بڑھتا ہوا درکار رن اوسط تیز کھیلنے کا متقاضی تھا اور اسی کی کوشش میں دو مسلسل اوورز میں محمد حفیظ اور صہیب مقصود آؤٹ ہوکر تمام تر بوجھ شاہد آفریدی کے کاندھوں پر منتقل کرگئے۔ محمد حفیظ آشون کی کیرم بال پر ڈیپ اسکوائر لیگ پر بھوونیشور کمار کے شاندار کیچ کا شکار بنے جبکہ صہیب مقصود اگلے اوور میں رن آؤٹ ہوکر پاکستان کو سنگین مسئلے سے دوچار کرگئے۔ حفیظ نے 117 گیندوں پر 75 اور صہیب مقصود نے 53 گیندوں پر 38 رنز بنائے۔

اس مقام پر شاہد آفریدی اور عمر گل نے 23 گیندوں پر 33 رنز جوڑ کر پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن دھکا لگایا۔ اگر چند ہی گیندوں کے وقفے سے عمر گل، محمد طلحہ اور سعید اجمل واپس آؤٹ نہ ہوتے تو پاکستان باآسانی جیت جاتا لیکن معاملہ آخری وکٹ تک پہنچا جہاں آفریدی نے دو چھکوں کے ساتھ میچ کا فیصلہ کردیا۔

بھارت کی جانب سے آج امیت مشرا نے بہت عمدہ باؤلنگ کی اور 10 اوورز میں صرف 28 رنز دے کر دو قیمتی وکٹیں حاصل کیں۔ گو کہ آشون نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن آخری اوور میں آفریدی کے ہاتھوں دو گیندوں پر چھکے کھانے کے ساتھ ہی ان کی تمام 'نیکیوں' پر پانی پھر گیا۔ دو وکٹیں بھوونیشور کمار نے بھی حاصل کیں۔ رویندر جدیجا باؤلنگ میں خاص جادو نہ دکھا سکے اور 10 اوورز میں 61 رنز کھائے۔

جس طرح بھارتی اننگز میں اہم لمحہ وہ تھا جب حفیظ نے جدیجا کا کیچ چھوڑا، بالکل اسی طرح پاکستان کی باری کا اہم مرحلہ دنیش کارتھک نے صہیب مقصودکو اسٹمپڈ کرنےکا موقع ضایع کیا۔ دنیش نے سری لنکا کے خلاف گزشتہ مقابلے میں اس وقت مرد میدان کمار سنگاکارا کو آؤٹ کرنے کا موقع گنوایا تھا جب وہ محض 30 رنز پر کھیل رہے تھے اور بعد ازاں سنگا نے سنچری بنائی اور سری لنکا کو دو وکٹوں سے کامیابی دلائی۔ یوں دو مایوس کن شکستوں میں غلطی کا بوجھ کارتھک کے کاندھوں پر آ گیا ہے اور دھونی کی عدم موجودگی میں ان کی وکٹوں کے پیچھے کارکردگی نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان عائد کردیا ہے۔

فتح خامیوں کو چھپا دیتی ہے، اس لیے یہ مقابلہ اپنے نتیجے کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جائے گا لیکن پاکستان نے جس طرح بھارت کے بلے بازوں کوابتداء میں لگام دی اور میچ میں اپنی گرفت مضبوط کی، اس کے بعدنہ بھارت کے اسکور کو 245 رنز کے بڑے مجموعے تک پہنچنے دینا چاہیے تھا اور نہ ہی 71 رنز کا شاندار ابتدائی آغاز ملنے کے بعد مقابلے کو اعصاب شکن مرحلے تک پہنچنا چاہیے تھا۔ بیٹنگ آرڈر میں غیر ضروری تجربات، وکٹوں کے درمیان بھیانک رننگ اور ناقص فیلڈنگ نے پاکستان کو ایشیا کپ سے باہر کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، بس آخر میں شاہد آفریدی کی اننگز نے تمام 'گناہوں' کی تلافی کردی۔ بہرحال، اس یادگار فتح کے ساتھ بہرحال، پاکستان نے فائنل کے لیے نشست تقریباً پکی کرلی ہے جبکہ بھارت بھی ایشیا کپ سے باہر ہی ہوچکا ہے۔

مصنف: تاریخ: 2 مارچ، 2014   موضوع: بھارت، پاکستان   ٹیگز: ، ،

کے بارے میں

فہد کیہر (قلمی نام: ابوشامل) کرک نامہ کے مدیر اور بانی ہیں۔ آپ 2007ء سے اردو بلاگنگ سے وابستہ ہیں۔

1 تبصرہ برائے تحریر"بوم بوم پاکستان! آفریدی کے دو چھکے اور بھارت ہار گیا"

  1. انیس الرحمن says:

    میچ جیتنے کی خوشی اپنی جگہ۔۔۔
    لیکن میں شعیب اختر کی اس بات سے متفق ہوں کہ پاکستان کا مقابلہ خود اپنے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ سامنے والی ٹیم کے ساتھ۔۔
    پاکستان کی ٹیم نے وکٹیں خود دیں بھارت کو۔ ورنہ یہ میچ پاکستان کم از کم آٹھ وکٹ سے جیتتا۔

تبصرہ تحریر کریں

مجھے بذریعہ ای میل اس تحریر پر ہونے والے تازہ تبصروں سےآگاہ رکھیں۔ بغیر تبصرہ کیے تازہ تبصروں سے آگاہ رہنے کے لیےیہاں کلک کریں ہیں۔


Shahi Supermint