تجزیے، تبصرے اور اعدادوشمار

مزید
Ntini-Boucher

ایک روزہ کرکٹ اور 400 رنز کی تاریخ

کرکٹ ریکارڈز کا کھیل ہے، ہر روز نت نئے ریکارڈ بنتے اور پرانے ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن کچھ ریکارڈز ایسے ہوتے ہیں جو بار بار بننے کے باوجود بہت دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔ جس طرح ایتھیلٹکس میں 100 میٹرز کی دوڑ کو ایک خاص مقام حاصل ہے بالکل اس طرح کرکٹ میں سب سے بڑے مجموعے، تیز ترین نصف سنچریوں اور سنچریوں کے ریکارڈ کی حیثیت نمایاں ہے۔ عالمی کپ 2015ء میں ویسٹ انڈیز سڈنی میں کھیلے گئے مقابلے میں ایسا ہی ایک ریکارڈ سامنے آیا، جب جنوبی افریقہ کے کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے صرف 66 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 17 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے 162 رنز بنائے۔ 'اندھادھند فائرنگ' جیسی اس اننگز نے جنوبی افریقہ کو مقررہ 50 مزید پڑھیے

AB-de-Villiers

ڈی ولیئرز کی اننگز، ریکارڈز کی نظر میں

آسٹریلیا کے ساحلی شہر سڈنی سے آج ایک طوفان ٹکرایا، جس کا نام ابراہم ڈی ولیئرز تھا۔ جب جنوبی افریقہ 30 اوورز میں 3 وکٹوں پر صرف 146 رنز پر موجود تھا تو زیادہ سے زیادہ اسکور کے دوگنا ہونے کی توقع کی گئی ہوگی لیکن ڈی ولیئرز کی ناقابل یقین اننگز نے اسے تقریباً تین گنا کردیا۔ ابھی ایک ماہ اور چند دن ہی گزرے ہیں کہ ڈی ولیئرز نے ویسٹ انڈیز کے انہی گیندبازوں کے خلاف تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری اور سنچری کے ریکارڈ بنائے تھے اور آج ایک مرتبہ پھر 'کالی آندھی' کا زور توڑنے کے لیے کارگر ثابت ہوئے۔ 66 گیندوں پر 162 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے ریکارڈ بک میں کئی تبدیلیاں کیں۔ جب 52 گیندوں پر مزید پڑھیے

West Indies v Zimbabwe - 2015 ICC Cricket World Cup

صفر پر بچت اور پھر ڈبل سنچری

دنیائے کرکٹ میں اس وقت ہر طرف ایک ہی نام گونج رہا ہے، کرس گیل! جن کی 147 گیندوں پر 215 رنز کی اننگز نے کئی ریکارڈز توڑے اور ساتھ ہی کئی چہروں پر مسکراہٹ لائی اور کئی ذہنوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرگئی۔ عظمت کی نئی بلندیوں کو چھونے والی ہر اننگز کو قسمت کا ساتھ بھی حاصل رہتا ہے اور گیل کی اننگز بھی ا سے ماوراء نہیں ہے۔ کینبرا کے منوکا اوول میں جب ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی سنبھالی تو اسے پہلے ہی اوور میں ڈیوین اسمتھ کی وکٹ سے ہاتھ دھونے پڑے۔ تناشی پنیانگرا کی ایک خوبصورت گیند اسمتھ کے دفاع کو توڑتی ہوئی وکٹوں میں جا گھسی۔ ابھی ویسٹ انڈیز اس دھچکے سے مزید پڑھیے

اگر نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری کو نکال دیں تو دو سالوں میں یونس کی بہترین اننگز 35 رنز کی ہے

یونس– بونس یا بوجھ؟

صفر، چھ، گیارہ، نو۔۔۔ یہ اس بلے باز کی حالیہ کارکردگی ہے، جسے پاکستان کی کمزور بیٹنگ لائن کو سہارا دینے کے لیے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ بوجھ بن گیا ہے۔ جی ہاں! میں بات کر رہا ہوں یونس خان کی کہ جنہیں گزشتہ سال غیر تسلی بخش کارکردگی پر جب ایک روزہ ٹیم سے الگ کیا گیا تھا تو نہ صرف سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا بلکہ ایک مقابلے کے بعد پریزنٹیشن کے دوران بورڈ کا شکریہ تک ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اسے پاکستان کے ساتھ ساتھ یونس خان کی بھی بدقسمتی کہیے کہ آسٹریلیا کے ہاتھوں کلین سویپ مزید پڑھیے