تجزیے، تبصرے اور اعدادوشمار

مزید
James-Faulkner-Corey-Anderson

نیا عالمی چیمپئن آسٹریلیا، ایک نئے عہد کا آغاز

دنیائے کرکٹ میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کی گہماگہمی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچی اور’’حق بہ حقدار رسید‘‘، آسٹریلیا نے پانچویں بار کرکٹ کے سب سے بڑا اعزاز حاصل کرلیا۔ ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلا گیا فائنل توقعات کے برخلاف بالکل یکطرفہ ثابت ہوا اور یوں آسٹریلیا نے بڑے مقابلوں کو باآسانی جیتنے کی اپنی روایت قائم رکھی۔ نیوزی لینڈ، جو پورے عالمی کپ کے دوران ناقابل تسخیر اور چھایا ہوا نظر آ رہا تھا، آخری پڑاؤ پر منتشر دکھائی دیا اور اوسان خطا ہوجانے کے بعد شکست سے دوچار ہوا۔ حواس باختگی کی ایک جھلک مقابلے کے پہلے ہی اوور میں نظر آ گئی تھی جب کپتان برینڈن میک کولم حریف تیز گیندباز مچل اسٹارک کی برق رفتار گیندوں کی تاب نہ لا سکے اور مزید پڑھیے

2015 ICC Cricket World Cup Final Press Conference

آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ، کس کا پلڑا بھاری؟

عالمی کپ 2015ء اپنے حتمی مرحلے میں پہنچ گیا ہے جہاں میزبان آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ملبورن کے تاریخی میدان پر فائنل میں مدمقابل ہوں گے۔ نیوزی لینڈ نے ایک کانٹے دار مقابلے میں جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی جبکہ آسٹریلیا دوسرے سیمی فائنل میں بھارت کو 95 رنز کی بڑی شکست دے کر فائنل تک پہنچا ہے۔ یہی بہترین موقع ہے کہ ہم دونوں ٹیموں کے باہمی مقابلوں کا ایک تقابل کریں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ فائنل سے قبل کس کا پلڑا بھاری ہے۔ اگر دونوں ٹیموں کے اب تک کھیلے گئے باہمی ایک روزہ مقابلوں پر نگاہ دوڑائیں تو مجموعی طور پر آسٹریلیا کا غلبہ نظر آتا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مابین اب تک 126 ایک روزہ بین مزید پڑھیے

Azhar-Ali

نیا کپتان: پاکستان اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارتے ہوئے؟

عالمی کپ 2015ء سے اخراج کے ساتھ ہی پاکستان کے ایک روزہ کپتان مصباح الحق اور ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی کے ون ڈے کیریئر کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ اب قومی کرکٹ میں 'کروڑوں روپے کا سوال' یہ ہے کہ ایک روزہ میں اگلا کپتان کون ہوگا؟ جتنے منہ، اتنی باتیں ہیں، حقائق کم اور خواہشات زیادہ، لیکن پھر بھی ایک تاثر جو شدت کے ساتھ قائم ہوچکا ہے، کیا جا رہا ہے، کہ اظہر علی کو پاکستان کا نیا ایک روزہ کپتان بنایا جائے گا۔ یعنی پاکستان کرکٹ "اسی کیلے کے چھلکے پر ایک مرتبہ پھر پھسلے گی۔" جب 2003ء کے عالمی کپ میں بدترین شکستوں کے بعد پاکستان باہر ہوا تو قیادت راشد لطیف کو سونپی گئی تھ۔ صرف تین مہینے آزمایا گیا، مزید پڑھیے

world-cup-trophy

نیوزی لینڈ، کیا ”دیوانے“ کا خواب پورا ہوگا؟

نیوزی لینڈ کے لیے عالمی کپ کے فائنل تک رسائی ایک 'دیوانے کے خواب' سے کم نہیں ہے۔ ایک ایسی ٹیم جو چھ مرتبہ سیمی فائنل تک پہنچی ہو اور ہر بار شکست کھائی ہو، بالآخر یہ رکاوٹ عبور کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔ جب 29 مارچ کو برینڈن میک کولم سیاہ پوش کھلاڑیوں کے ساتھ ملبورن کے میدان میں اتریں گے، تو یہ ایک تاریخی نظارہ ہوگا۔ لیکن ایک سوال، کہ آخر نیوزی لینڈ کی کایا کیسے پلٹی؟ یہی ٹیم کوئی دو سال پہلے تو بنگلہ دیش کے ہاتھوں ایک روزہ سیریز ہار چکی ہے، وہ بھی سیدھی سادی شکست نہیں بلکہ کلین سویپ۔ وہ بھی بنگلہ دیش جیسے کمزور حریف کے خلاف تین سالوں میں دوسری وائٹ واش ہزیمت۔ کپتان یہی، کھلاڑی مزید پڑھیے