Urdu Social Media Summit 2015

تجزیے، تبصرے اور اعدادوشمار

مزید
Bangladesh-team

دیوانے کا خواب حقیقت بن گیا

چٹ پٹ طے کی گئی پاک-بنگلہ سیریز سے قبل جب آل راؤنڈر شکیب الحسن نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش 'فیورٹ' ہوگا تو مجھ سمیت کئی لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا۔ آخر 16 سال سے بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کے خلاف ایک فتح کو ترسنے والا بنگلہ دیش کیسے جیت سکتا ہے؟ وہ بھی عالمی کپ کا بہترین اسپیل پھینکنے والے وہاب ریاض، جنوبی افریقہ کے چھکے چھڑا دینے والے سرفراز احمد، پاکستان کے باصلاحیت ترین گیندباز جنید خان، 'جادوگر' سعید اجمل، قابل بھروسہ بلے باز محمد حفیظ، مصباح الحق کے 'جانشین' فواد عالم، نپی تلی گیندبازی کرنے والے راحت علی اور نئے لیکن باحوصلہ کپتان اظہر علی سے؟ پہلا ردعمل تو یہی تھا کہ "سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔" لیکن صرف مزید پڑھیے

azhar-ali

ڈیڑھ سال بیت گیا، پاکستان شکست سے دامن نہیں چھڑا سکا

ہم جسے ناممکنات میں سے ایک سمجھتے تھے، اب حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ بنگلہ دیش کے مقابلے میں دنیا کی سب سے بڑی قوت پاکستان بالآخر مقابلہ ہی نہیں بلکہ سیریز بھی ہار گیا۔ ایک ایسی ٹیم جس کے خلاف 16 سالوں میں بنگلہ دیش کوئی ٹیسٹ، کوئی ون ڈے یہاں تک کہ کوئی ٹی ٹوئنٹی تک نہیں جیت پایا تھا، اب مسلسل دو شکستوں کے بعد اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہوا؟ بنگلہ دیش کی انتھک محنت اور لگن سے، جدوجہد سے، یقینِ کامل اور امیدِ واثق سے۔ اُس نے پاکستان کی ہر ہر کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور ظفرمند ثابت ہوا جبکہ پاکستان نے ہر اس غلطی کا اعادہ کیا، جو اسے نہیں کرنی مزید پڑھیے

Azhar-Ali

شکست سے گھبرانا نہیں، پاکستان کو آگے بڑھنے کی ضرورت

بنگلہ دیش کے ہاتھوں پہلے ایک روزہ مقابلے میں پاکستان کی شکست ہرگز غیر متوقع نہیں تھی۔ ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے تک بنگلہ دیش کے خلاف پاکستان کی مسلسل فتوحات اس حقیقت کا مظہر تھی کہ بنگلہ دیش کی کرکٹ کے آگے بڑھنے کی رفتار سست ہے اور اس کے مقابلے میں پاکستان کہیں بہتر ٹیم ہے لیکن دونوں ٹیموں کے آخری باہمی مقابلوں سے صاف اندازہ ہوگیا تھا کہ اب یہ فرق بہت کم رہ گیا ہے۔ جب ایشیا کپ 2012ء کے فائنل میں پاکستان اور بنگلہ دیش مقابلے آئے تھے تو معاملہ آخری اوور بلکہ آخری گیند تک پہنچا اور پاکستان محض دو رنز سے کامیابی حاصل کر پایا اور ایشیائی چیمپئن بنا۔ دو سال بعد 2014ء میں یہی ایشیا کپ تھا مزید پڑھیے

James-Faulkner-Corey-Anderson

نیا عالمی چیمپئن آسٹریلیا، ایک نئے عہد کا آغاز

دنیائے کرکٹ میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کی گہماگہمی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچی اور’’حق بہ حقدار رسید‘‘، آسٹریلیا نے پانچویں بار کرکٹ کے سب سے بڑا اعزاز حاصل کرلیا۔ ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلا گیا فائنل توقعات کے برخلاف بالکل یکطرفہ ثابت ہوا اور یوں آسٹریلیا نے بڑے مقابلوں کو باآسانی جیتنے کی اپنی روایت قائم رکھی۔ نیوزی لینڈ، جو پورے عالمی کپ کے دوران ناقابل تسخیر اور چھایا ہوا نظر آ رہا تھا، آخری پڑاؤ پر منتشر دکھائی دیا اور اوسان خطا ہوجانے کے بعد شکست سے دوچار ہوا۔ حواس باختگی کی ایک جھلک مقابلے کے پہلے ہی اوور میں نظر آ گئی تھی جب کپتان برینڈن میک کولم حریف تیز گیندباز مچل اسٹارک کی برق رفتار گیندوں کی تاب نہ لا سکے اور مزید پڑھیے